17 مارچ 2013 - 20:30

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں کئی روز تک مسلسل کرفیو کے نفاذ کے بعد وادی بھر میں اتوار کو پوری طرح سے زندگی کی سرگرمیاں بحال ہوگئیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے پائین شہر سمیت وادی کے کسی بھی علاقے میں کرفیو یا پابندیوں کا نفاذ عمل میں نہیں لایا گیا تھا۔

ابنا: ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں کئی روز تک مسلسل کرفیو کے نفاذ کے بعد وادی بھر میں کل اتوار کو پوری طرح سے زندگی کی سرگرمیاں بحال ہوگئیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے پائین شہر سمیت وادی کے کسی بھی علاقے میں کرفیو یا پابندیوں کا نفاذ عمل میں نہیں لایا گیا تھا۔ اس دوران لنگیٹ ہندوارہ میں گرفتاریوں کیخلاف نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔ اتوار کو شہر کے لالچوک مارکیٹ میں سنڈے مارکیٹ بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہا جہاں سینکڑوں لوگوں نے آکر خریداری کی ۔اس دوران مختلف پرائیویٹ اسکولوں نے اتوار کو بھی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں ۔اتوار کی صبح سے ہی پائین شہر کے علاوہ وادی کے شمال وجنوب سے کرفیو اور سیکورٹی پابندیاں ہٹالی گئیں ۔ اس دوران زندگی پٹڑی پر واپس لوٹ آنے کے ساتھ ہی آج سموار کو شہر سرینگر میں ہر طرح کی دکانیں ، کاروباری ادارے ، تجارتی مراکز ، پیڑول پمپ اور نجی دفاتر کھل گئے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی معمول کے مطابق سڑکوں پر چلتا رہا۔ادھر وادی کے دیگر اضلاع شوپیاں، اننت ناگ، کولگام، پلوامہ، کپواڑہ، بانڈی پورہ، بارہمولہ، بڈگام اور گاندربل شامل میں بھی نظام زندگی پوری طرح سے بحال ہوئی اور ان اضلاع میں بھی بازاروں میں گہما گہمی دیکھنے کو ملی۔ تاہم ہندوارہ سے نمائندے محمد شفیع نے اطلاع دی ہے کہ قصبہ لنگیٹ میں نوجوانوں نے گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ قصبہ میں پولیس پر پتھرائو کے واقعات بھی پیش آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242